نئی دہلی ،28؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے دناکرن گروپ کو پریشر کوکر انتخابی نشان مختص کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کا دہلی ہائی کورٹ کا حکم ملتوی کر دیا۔عدالت عظمی نے ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے دونوں گروہوں کے درمیان ’دو پتی‘انتخابی نشان کو لے کر چل رہے تنازعہ پر اپریل کے آخر تک فیصلہ کرے۔چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھانولکرکی بنچ نے ہائی کورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس گیتا متل سے کہا ہے کہ انتخابی نشان کو لے کر اے آئی اے ڈی ایم کے کے دونوں گروہوں کے درمیان بنیادی تنازعہ پر اپریل کے آخر تک فیصلہ کرنے کے لئے دو ججوں کی بنچ قائم کی جائے۔انتخابی نشان دو پتی پر تمل ناڈو کے وزیر اعلی ای کے پلانیسوامی کی قیادت والا گروہ اور ٹی ٹی وی دناکر کی قیادت والا مقابل گروہ دونوں ہی دعوی کر رہے ہیں۔ہائی کورٹ نے نو مارچ کو الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ دناکرن کی قیادت والے اے آئی اے ڈی ایم کے کو ایک طرح کا انتخابی نشان ممکن ہو تو پریشر کوکر اور ایک نام مختص کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے 23نومبر،2017کے حکم کو چیلنج دینے والی دناکرن کی عرضی پر یہ حکم دیا تھا۔کمیشن نے پلانیسوامی گروپ کو دو پتی انتخابی نشان مختص کر دیا تھا۔دناکرن انتخابی نشان پریشر کوکر چاہتے تھے کیونکہ اس انتخابی نشان پر رادھا کرشن بلدیاتی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات میں وہ چالیس ہزار سے بھی زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے۔اے آئی اے ڈی ایم کے سربراہ کے دسمبر، 2016میں انتقال کے بعد رادھا کرشن بلدیاتی اسمبلی علاقے کے لیے ضمنی انتخاب کے اعلان کے بعد سے ہی ’دو پتی‘انتخابی نشان کا معاملہ تنازعہ میں ہے۔